Select Menu

اہم خبریں

clean-5

Product.

Islam

Iqtibasaat

History

Photos

Sale

Misc

Technology

امریکا میں قدرتی گیس کے نرخوں میں 5 فیصد کمی






ماہرین کے مطابق ملک کی ذیلی 48 ریاستوں کی طلب اور برآمدات میں کمی کے
 باعث آئندہ ہفتے گیس کی کھپت 87 ارب مکعب فٹ یومیہ سے کم ہوکر 84.8 ارب مکعب فٹ یومیہ رہنے کا امکان ہے۔ 
امریکا انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن کے مطابق ملک میں ڈرلنگ میں کمی کے باعث گی
 س کی اوسط سالانہ پیداوار رواں سال کم ہوکر 91.7 ارب مکعب فٹ یومیہ جبکہ 2021 ء میں 87.5 ارب معکب فٹ یومیہ تک پہنچنے کا امکان ہے۔
امریکا میں قدرتی گیس کے نرخوں میں 5 فیصد سے زیادہ کمی ہوئی جس کی وجہ معتدل موسم کے باعث اس کی طلب کم ہونا ہے۔نیویارک مرکنٹائل ایکسچینج میں گیس کے مئی کے لیے سودے 9.5 سینٹ (5.4 فیصد) گر کر 1.651 ڈالر فی ملین برٹش تھرمل یونٹ طے پائے۔




شمالی کوریا کے لیڈر کم جونگ ان کی جگہ کون لے سکتا ہے؟






شمالی کوریا کا سرکاری میڈیا اپنے ملک میں ہر چیز کے ٹھیک ہونے کا پیغام دے رہا ہے لیکن دنیا کے دوسرے حصوں میں شمالی کوریا کے سپریم لیڈر کم جونگ ان کی صحت کے بارے میں قیاس آرائیاں جاری ہیں۔ ان کی شدید بیماری کے ساتھ ان کی موت کے بارے میں بھی افواہوں کا بازار گرم ہے۔
ان کی صحت کے متعلق قیاس آرائیوں کا یہ دور 15 اپریل کے بعد شروع ہوا کیوں کہ کم جونگ اُن اس دن اپنے دادا اور شمالی کوریا کے بانی کم اِل سونگ کی سالگرہ کی تقریبات میں شریک نہیں ہوئے تھے۔
جنوبی کوریا اور امریکہ کی حکومتوں نے کہا ہے کہ شمالی کوریا میں ایسی کوئی غیر معمولی سرگرمی نہیں دیکھی گئی ہے جس سے یہ اندازہ لگایا جا سکے کہ کم جونگ ان شدید بیمار ہیں یا ان کی موت ہوگئی ہے۔ لیکن جب تک شمالی کوریا کی حکومت کے زیرکنٹرول میڈیا اس کے متعلق کوئی اعلان نہیں کرتا اس وقت تک کم جونگ ان کے بارے میں افواہوں کا سلسلہ جاری رہے گا۔

اگر یہ افواہیں درست ہیں تو پھر سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ شمالی کوریا کے سربراہ کی حیثیت سے کِم جونگ ان کی جگہ کون لے گا؟



کم جونگ ان کی چھوٹی بہن کم یو جونگ کو شمالی کوریا میں ملک کے نئے رہنما کے لیے پہلی پسند کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔
31 سالہ کم یو جونگ اپنے بھائی کی طرح مغربی ملک سوئٹزرلینڈ میں تعلیم حاصل کر چکی ہیں۔ وہ پولٹ بیورو کی رکن ہیں اور ملک کے سب سے اہم پبلسٹی اینڈ موومنٹ ڈیپارٹمنٹ کی اسسٹنٹ ڈائریکٹر بھی ہیں۔
انھیں کِم جونگ ان کی 'سیکرٹ ڈائری' کے طور پر بھی شہرت حاصل ہے۔ ایسا خیال ظاہر کیا جاتا ہے کہ کم جونگ ان کے روز مرہ کے کام کاج میں بھی یو جونگ کا اہم کردار ہوتا ہے۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ وہ اپنے بھائی کو پالیسی معاملات پر بھی مشورہ دیتی ہیں۔ کم یو جونگ نام نہاد 'ماؤنٹ پیکٹو بلڈ لائن' کی رکن بھی ہیں جو کہ کم اِل سونگ کی براہ راست نسل کے طور پر دیکھا جاتا ہے اور جن کا شمالی کوریا کی سیاست میں اہم کردار رہا ہے۔





لیکن یہ بھی کہا جاتا ہے کہ وہ ہر چیز میں جلد بازی کا مظاہرہ کرتی ہیں جس کی وجہ سے ان کی جانب سے غلطیوں کا زیادہ امکان رہتا ہے۔
گذشتہ دنوں کِم جونگ ان اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ملاقات کے دوران چھپ کر جھانکتی ہوئی ان کی تصویر کی وجہ سے کم جونگ ان کو سبکی ہوئی تھی۔ بہر حال کم یو جونگ نے پہلی بار اس طرح کی حرکت نہیں کی تھی۔
لیکن ایک سوال یہ بھی ہے کہ کیا شمالی کوریا کسی خاتون کی قیادت کے لیے تیار ہے؟ شمالی کوریا کے سیاسی اور معاشرتی نظام میں خواتین کا اہم کردار ہے لیکن طاقتور پوزیشن پر ان کی موجودگی انتہائی کم ہے۔
ایسی صورتحال میں کیا وہ کِم خاندان کی رکن کی حیثیت سے پدرشاہی معاشرے کے چیلینج پر فتح حاصل کر سکیں گی؟

 کم جونگ چول


کم جونگ ان کے بڑے بھائی کِم جونگ چول ہیں۔ ان کے والد نے انھیں شمالی کوریا کے مستقبل کے رہنما کی حیثیت سے تیار کیا تھا لیکن کم جونگ چول نے فوج اور سیاست میں زیادہ جوش و خروش نہ دکھایا تو پھر اس کے بعد کم جونگ ان کو ان کی جگہ دے دی گئی۔
کم جونگ چول کو بھی عام طور پر عوام میں نہیں دیکھا جاتا ہے۔ انھیں سنہ 2015 میں لندن میں اس وقت دیکھا گیا تھا جب وہ اپنے پسندیدہ گٹارسٹ ایرک کالپٹن کے رائل البرٹ ہال میں منعقدہ ایک کنسرٹ میں نظر آئے تھے۔
لیکن کیا انھیں ملک کی قیادت حاصل ہوگی؟ اس کا امکان بہت کم ہے۔

جانشین کا انتخاب کس طرح ہوگا؟

سنہ 1948 میں شمالی کوریا کے قیام کے بعد سے ہی وہاں کِم خاندان کے افراد کی حکومت رہی ہے۔
ملک کے نئے قائد کا باضابطہ اعلان شمالی کوریا کی پارلیمنٹ سپریم پیپلز اسمبلی ہی کرتی ہے۔ لیکن ورکرز پارٹی اور ان کے حامیوں کے زیر اثر شمالی کوریا کی پارلیمنٹ کو ربڑ سٹامپ پارلیمنٹ بھی کہا جاتا ہے۔ سرکاری طور پر باضابطہ اعلان سے مہینوں یا برسوں پہلے ہی رہنما کا انتخاب ہو جاتا ہے۔
کِم جونگ ان کے والد کم جونگ اِل سنہ 1994 میں شمالی کوریا کے بانی اور اپنے والد کم اِل سونگ کی وفات کے بعد رہنما بنے تھے۔ انھوں نے اپنی حکمرانی کے دوران شمالی کوریا کی سیاست میں کِم خاندان کے اہم کردار کو یقینی بنایا۔
انھوں نے ایک ایسا بیانیہ تیار کیا جس میں یہ کہا گیا کہ کِم خاندان کوریائی تہذیب کی پرورش کرنے والے مقدس کوہ آتش فشاں پیکٹو کے عظیم خاندان میں سے ایک ہے۔ انھوں نے اپنے خاندان کو اس مقام پر پہنچا دیا جس کے متعلق یہ عقیدہ بن گیا کہ اس خاندان کے لوگ حکمرانی کے لیے پیدا ہوئے ہیں۔
کِم اِل سونگ نے کم جونگ اِل کو اپنا جانشین منتخب کیا۔ اور پھر کِم جونگ اِل نے اپنے بیٹے کِم جونگ ان کو اقتدار سونپ دیا۔
کم جونگ ان کی اپنی فیملی ہے لیکن اب تک ان کی کسی اولاد کو عوام میں نہیں دیکھا گیا ہے۔ اور نہ ہی کسی کو اقتدار سنبھالنے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ شمالی کوریا کے عوام کم جونگ ان کے بچوں کا نام تک نہیں جانتے۔
شمالی کوریا میں کم جونگ ان کی جگہ لینے کے لیے کسی کو بھی ممکنہ رہنما کے طور پر تیار نہیں کیا گیا ہے۔ ایسی صورتحال میں کِم کی بے وقت رخصتی سے ایک خلا پیدا ہوگا جس کو پورا کرنا مشکل ہوگا۔



سعودی عرب کا پاکستان کو کھجور کا تحفہ


سعودی عرب نے پاکستان کو 150 ٹن کھجور کا تحفہ دیا ہے۔ تحفے کا اعلان سعودی سفارت خانے کی جانب سے کیا گیا ۔
Save 70% on select product(s) with promo code 70B2IIQQ on Amazon.com پاکستان میں سعودی سفیر نواف المالکی نے بتایا کہ سعودی عرب نے اپنے دیرینہ دوست پاکستان کو 150 ٹن کھجور کا تحفہ دیا ہے۔   انہوں نے بتایا کہ مذکورہ تحفہ پاکستانی حکام کے سپرد کردیا گیا ہے۔