Select Menu

اہم خبریں

clean-5

Product.

Islam

Iqtibasaat

History

Photos

Sale

Misc

Technology

عرفان خان: بڑے خواب دیکھنے والا روایت شکن فنکار

  جب میرا نائر کی فلم ’سلام بمبئی‘ پوری دنیا میں دھوم مچا رہی تھی تو شاید ہی کسی نے اس میں کام کرنے والے 18-20 سال کے دبلے پتلے لڑکے پر غور کیا ہو جو سکرین پر چند سیکنڈ کے لیے دکھائی دیتا ہے۔
اداکار عرفان خان نے اس فلم میں سڑک کنارے بیٹھ کر لوگوں کے خط لکھنے والے لڑکے کا ایک چھوٹا سا کردار ادا کیا تھا اور چند مکالمے بھی بولے تھے۔
'بس بس دس لائن ہو گئیں۔ آگے لکھنے کے 50 پیسے لگیں گے۔ ماں کا نام پتا بول۔'
لوگوں نے پہلی بار عرفان خان کو فلمی سکرین پر دیکھا اور بھول گئے لیکن شاید ہی کسی کو معلوم تھا کہ یہ اداکار آگے چل کر نہ صرف انڈیا بلکہ دنیا بھر میں نام کمائے گا۔
1966 میں جے پور میں پیدا ہونے والے عرفان خان کا بچپن ایک چھوٹے سے شہر ٹونک میں گزرا۔ یہ شہر چھوٹا تھا لیکن عرفان کے خواب بڑے تھے۔

بچپن سے ہی قدرتی طور پر قصے کہانیوں میں دلچسپی رکھنے والے عرفان کا رحجان فلموں کی طرف ہو گیا اور وہ بھی خاص طور پر نصیر الدین شاہ کی فلمیں۔

انڈیا کے راجیہ سبھا ٹی وی کو دیے ایک انٹرویو میں اپنی نوعمری کا ایک قصہ سناتے ہوئے عرفان نے بتایا تھا 'مِتھن چکرورتی کی فلم ’مرگیا‘ آئی ہوئی تھی۔ کسی نے کہا تیرا چہرہ متھن سے ملتا ہے۔ بس مجھے لگا کہ میں بھی فلموں میں کام کر سکتا ہوں۔ کئی دنوں تک میں متھن جیسے بال بنا کر گھومتا رہا۔'
آگے چل کر عرفان خود ایک رجحان ساز اداکار بننے والے تھے اور یہ بات وہ نوعمری میں نہیں جانتے تھے۔


ایک جانب جہاں انہوں نے خود کو ہندی سنیما کے سب سے قابل اداکاروں کی فہرست میں شامل کر لیا وہیں ہالی وڈ میں لائف آف پائی، دا نیم سیک، سلم ڈاگ ملینیئر، دا مائٹی ہارٹ، دا امیزنگ سپائڈر میین جیسی فلموں میں بھی کام کیا۔
اور اس سفر میں انھیں اینگ لی اور میرا نائر سے لے کر انیس بزمی اور شوجیت سرکار جیسے ہدایت کاروں کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملا۔
چاہے آنکھوں سے اداکاری کا فن ہو، مکالمے بولنے کا قدرتی ہنر، رومانی کردار سے لے کر ڈاکو بننے تک کی صلاحیت، عرفان خان جیسا دوسرا فنکار ڈھونڈنا آسان نہیں۔
مثال کے طور پر ان کی فلم پان سنگھ تومر میں ایک ڈاکو کا کردار، جس طرح وہ معصومیت، بھولاپن، درد، تذلیل اور بغاوت کا احساس ایک ساتھ لے کر آئے، یہ کام کوئی غیر معمولی اداکار ہی کر سکتا ہے۔


جب نظام سے مایوس ہوکر بندوق اٹھانے والا باغی بولتا ہے 'بھیڑ میں باغی ہوتے ہیں، ڈکیت ملتے ہیں پارلیمان میں'، تو سارا تھیٹر تالیوں سے گونج اٹھتا ہے۔ یہ تالیاں صرف مکالمے پر ہی نہیں بجتیں بلکہ اپنی اداکاری سے عرفان خان نے ناظرین کو یہ یقین دلا دیا تھا کہ اس مکالمے میں جو بات کہی جا رہی تھی وہ صحیح تھی، بھلے وہ جانتے ہوں کہ وہ بات اصل میں صحیح نہیں تھی۔ فلم ’حیدر‘ میں وہ کردار جس میں وہ کہتے ہیں 'جہلم بھی میں، چِنار بھی میں، شیعہ بھی میں، سنی بھی میں اور پنڈت بھی۔' یہ کردار جو کہنے کو ایک بھوت تھا آپ کو یقین دلاتا ہے کہ وہ اصل میں ہے اور آپ کے ہی ضمیر کی آواز ہے۔
عرفان اپنے آپ میں ہنر کی کان تھے۔ خاص طور پر ایک ایسی انڈسٹری میں جہاں عامر خان، سلمان خان اور شاہ رخ خان جیسے اداکاروں کا نام چلتا ہے۔

یا پھر فلم مقبول میں ابا جی (پنکج کپور) کی وفاداری اور نمی (تبو) کی محبت کے درمیان پھنسا میاں مقبول جو ابا جی کا قتل کر کے ان سے پیچھا تو چھڑا لیتا ہے لیکن پچھتاوے سے نہیں بھاگ پاتا۔ وہ منظر جہاں عرفان اور تبو کو اپنے ہاتھوں پر خون کے دھبے نظر آتے ہیں، بغیر کچھ کہے اس میں عرفان احساس ندامت کے جذبات دیکھنے والوں تک پہنچا دیتے ہیں۔
جب فلم جذبہ میں وہ ایشوریا رائے سے کہتے ہیں 'محبت ہے اسی لیے تو جانے دیا، ضد ہوتی تو بانہوں میں ہوتی' تو دیکھنے والوں کو یقین ہوتا ہے کہ اس سے دلکش عاشق ہو ہی نہیں سکتا۔
کہنے کا مطلب یہ ہے کہ عرفان خان کی خاصیت یہی تھی کہ وہ جس کردار میں پردے پر نظر آئے، تھیٹر میں بیٹھے لوگوں کو لگتا تھا کہ ان سے بہتر تو یہ کردار کوئی اور کر ہی نہیں سکتا تھا۔
اس انڈسٹری میں جہاں ٹائپ کاسٹ ہو جانا بہت عام بات ہے، عرفان ان تمام روایات کو توڑتے چلے گئے۔
فلم ’حاصل‘ کے بعد انھیں تمام منفی کردار ملنے لگے لیکن اسی دوران انہوں نے ہندی میڈیم جیسی فلم میں کام کر کے ایک بار پھر یہ ثابت کر دیا کہ کامک ٹائمنگ میں ان کا کوئی جواب نہیں۔ اس فلم میں ان کے ساتھ پاکستانی اداکارہ صبا قمر نے مرکزی کردار ادا کیا تھا۔
اگر آپ نے ’قریب قریب سنگل‘ یا ’پیکو‘ دیکھی ہے تو ضرور خیال آیا ہوگا کہ عرفان اصل زندگی میں کتنی رومانوی طبیعت کے شخص ہوں گے۔ وہ اصل میں ایسے تھے بھی اور کھلے عام اس کا اعتراف بھی کیا کرتے تھے۔
لیکن عرفان کی کامیابی کے پیچھے برسوں کی گمنامی، جدوجہد اور ٹیلی ویژن کا مشکل سفر بھی شامل تھا۔
کئی دیگر اداکاروں کی طرح انڈیا کے نیشنل سکول آف ڈرامہ میں تعلیم حاصل کرنے کے بعد عرفان خان نے ممبئی کا رخ کیا لیکن وہاں فلموں میں چھوٹے موٹے کردار کے علاوہ انھیں کچھ نہیں ملا۔



بین الاقوامی سطح پر عرفان معمولی اہمیت نہیں رکھتے تھے۔ اسیم چھابڑا کی کتاب ’عرفان خان، دا مین، دا ڈریمر، دا سٹار' میں ذکر ہے کہ جب 2010 میں عرفان خان نیویارک میں ایک ریستوران میں تھے تو سامنے والی میز پر انھوں نے ہالی وڈ اداکار مارک رفلو کو دیکھا۔
عرفان ایک مداح کی طرح ان سے ملنا چاہتے تھے لیکن تکلف کر رہے تھے کیوں کہ وہ بڑا نام تھے۔ اتنی دیر میں مارک خود اٹھ کر ان کے پاس آئے اور بولے 'آپ کا کام دیکھا سلم ڈاگ میں۔ آپ نے بہت عمدہ کام کیا ہے۔'
یہ عجیب اتفاق کی بات ہے کہ جب عرفان نیشنل سکول آف ڈرامہ میں اپنی تعلیم مکمل کر رہے تھے تبھی انھیں اپنی پہلی بین الاقوامی فلم مل گئی تھی۔
میرا نائر نے انھیں سلام بامبے میں ایک بڑے کردار کے لیے چنا تھا۔ وہ بمبئی آکر ورکشاپ میں شامل ہوئے اور دو روز بعد ان سے کہا گیا کہ وہ فلم کا حصہ نہیں ہیں۔
بی بی سی کو دیے ایک انٹرویو میں انھوں نے بتایا کہ اس روز وہ رات بھر روتے رہے۔
پھر انھیں فلم میں چھوٹا سا کردار دے دیا گیا لیکن یہ قرض میرا نائر نے 18 برس بعد عرفان خان کو دا نیم سیک میں اشوک گانگُولی کا کردار دے کر ادا کیا۔
اس فلم کو دیکھ کر بالی وڈ کی اداکارہ شرمیلا ٹیگور نے عرفان خان کو پیغام بھیجا تھا جس میں لکھا تھا 'اپنے والدین کا شکریہ ادا کرنا تمہیں جنم دینے کے لیے۔'
اتفاق کی بات ہے کہ عرفان کی وفات سے تین روز قبل ہی ان کی والدہ سعیدہ بیگم کا بھی انتقال ہوا اور اب عرفان اس دنیا کو الوداع کہہ چلے۔
ہندی سنیما اور عالمی سنیما کو اپنی اداکاری سے سنوارنے والے، اپنی فلموں سے یہ بتانے والے کہ ہر احساس صحیح یا غلط، بلیک یا وائٹ نہیں ہوتا، اپنے چاہنے والوں کو ہنسانے اور رلانے والے عرفان خان کا تہہ دل سے شکریہ۔
کل رات ان کی فلم انگریزی میڈیم دیکھتے ہوئے گزری جو گذشتہ ماہ ہی ریلیز ہوئی تھی۔
راجستھان کے ایک چھوٹے سے قصبے کے رہنے والے اس کردار چمپک بنسل کے خوابوں کی داستان بالکل عرفان کی اصل زندگی کی طرح ہے اور چمپک بنسل کے قہقہے آج دیر تک کمرے میں گونجتے رہیں گے۔




لاک ڈاؤن کے دنوں میں دیکھے جانے والے بہترین پاکستانی ڈرامے۔۔

ملک بھر میں حکومت کی طرف سے لاک ڈاؤن میں توسیع کی جارہی ہے۔ کرونا کے باعث یہ وقت کا تقاضا بھی ہے کہ سماجی فاصلے کو فروغ دیتے ہوئے کم سے کم اور ضرورت کے تحت ہی گھر سے باہر نکلا جائے۔اگرچہ چوبیس گھنٹے کا دن گھر میں رہ کر گزارنا اور صرف ضرورت کے تحت باہر نکلنا ایک کٹھن ڈیوٹی ہے۔ لیکن ان لاک ڈاون کے دنوں میں بہت سے  آرٹیکلز  اور بلاگ پڑھ چکی ہوں جن میں طویل فرصت کے لمحات کو گزارنے کے مثبت اور بہترین طریقے بتائے گئے ہیں۔
ان بغیر مانگے عطا کردہ چھٹیوں میں تفریح اور وقت گزارنے کا ایک طریقہ پاکستان ٹیلی ویژن کےہٹ ڈراموں کو ایک بار پھر سے دیکھنا بھی ہو سکتا ہے۔
کہا جاتا ہے کہ پی ٹی وی کے ڈرامے لازوال ہیں۔ لیکن اس دور کے بھی  ایسے بہت سے ڈرامے ہیں جو منفرد مواد اور سبق آموز ہونے کی وجہ سے شہرت کی بلندیوں پر پہنچے۔
        
ان کی ایک لمبی فہرست میں سے پانچ ایسے ڈراموں کا انتخاب کیا ہے جو میرے دل کے بہت قریب ہیں۔

'داستان'

        اس ڈرامے کی داستان پاک وہن تقسیم پر مبنی ہے۔
 رضیہ بٹ کے ناول بانو کی کہانی کو پردے پر انتہائی خوبصورتی سے پیش کیا گیا ہے۔ ڈرامہ کا مرکزی کردار بانو ایک مسلمان عورت کی جدوجہد  آزادی کی کہانی ہے۔
جو ہندوستان کی تقسیم کے بعد ہونے والی خوفناک فسادات کا شکار ہوتی ہے۔ یہ ڈرامہ ان  مسلمانوں کی تکالیف کا ترجمان ہے جنہیں پاکستان میں قدم رکھنے کے لیے ناقابل معافی الام ومصائب کا سامنا کرنا پڑا۔ڈرامہ کی کاسٹ میں صنم بلوچ، احسن خان ،فواد خان، صبا قمر  اور دیگر بڑے نام شامل ہیں۔

جس خوبصورتی کے ساتھ اس ڈرامے میں برصغیر کی تقسیم سے متاثرہ لڑکی کی ہندوستان سر حد چھوڑنے  کی دکھ بھری داستان کو بیان کیا گیا ہے وہ واقعی قابلِ ستائش ہے۔
              


'درشہوار'

بظاہر تو یہ ایک عام کہانی لگتی ہے لیکن اس کہانی  کا  اندازِ بیاں، منظرکشی، حمیرا  احمد  کے دل کو چھو جانے  والے  ڈایلوکس  اور  اداکاروں  کی  بہترین  اداکاری  اس  عام  کہانی  کو  خاص  بنادیتی  ہے۔
درشہوار  صنم  بلوچ  کے  ہٹ  اور  لاجواب  ڈراموں  میں  سے  ایک  ہے۔  یہ ڈرامہ ازواجِ  زندگی اور اس زندگی میں عورت کے مثبت کردار کو فروغ دیتا ہے
ڈرامہ کی کہانی دو پلاٹس میں چلتی ہے۔ایک پلاٹ جہاں آج کے دور کی پڑھی   لکھی انڈیپنڈنٹ لڑکی شندانہ شادی شدہ زندگی کے مختلف مسائل سے دوچار ہے۔دوسرے پلاٹ میں شندانہ کی ماں درشہوار کی کہانی ہے۔درشہوار جو اپنی شادی شدہ زندگی کی مضبوطی کیلئے مختلف نشیب و فراز سے گزر چکی ہے۔




'شھر ذات'

شھر ذات ڈرامہ حمیرا احمد کے تحریر کردہ ناول پر بنایا گیا ہے۔ 2012 میں اس روحانی رومانوی ڈرامے کو خوب پذیرائی ملی۔
جس کا موضوع روحانیت ہے۔ڈرامے کی کہانی ایلیٹ کلاس لڑکی فلک کے گرد گھومتی ہے۔ جو خوبصورتی، دولت، سٹیٹس غرض دنیا کی ہر آسائش سے مالا مال ہے۔ لیکن اپنی دیوانہ وار محبت کو اتنی آسانی سے چھن جانے پر وہ سمجھ پاتی ہے کہ دنیاوی چکاچوند کتنی بے بنیاد اور خدا کی محبت کتنی سچی ہے۔ روحانیت کے عقیدے کو پردے پر لانا ہمیشہ ہی مشکل رہا ہے لیکن شھر ذات نے بے مثال ڈائیلاگس اور جاندار اداکاری پر خوب تعریفیں سمیٹی   ہے۔
سونے پر سہاگا اس کا او یس ٹی ہے جو عظیم صوفی گلوکارہ عابدہ پروین کی آواز میں ہے۔





'زندگی گلزار ہے'


اس ڈرامے کو اگر ایک جملے میں بیان کریں تو وہ ہے 'شکوے سے شکر تک کا سفر'۔ یہ کہانی کشف نامی لڑکی کی ہے جو احساسِ کمتری کے باعث منفی سوچوں کا شکار ہے۔ کشف جس کا اللہ کے ساتھ شکوے شکایتوں کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔
لیکن جیسے جیسے کہانی آگے بڑھتی ہےاسے اپنے لئے خدا کی بے شمار عطا کردہ نعمتوں کا احساس ہوتا ہے۔اس ڈرامے سے انڈسٹری میں اپنی جگہ بنانے والی صنم سعید کو آج بھی لوگ کشف کے نام سے یاد رکھنا چاہتے ہیں۔




'باغی'

آخر میں جس ڈرامے کی بات کرنے جا رہی ہوں اس کی کہانی سوشل میڈیا سے شہرت پانے والی اسٹار کی اصل زندگی پر ہے۔

کنول بلوچ نامہ یہ کردار جہاں ایک طرف غربت، گھریلو تشدد، بےروزگاری اور بے وفائی سے جارحانہ لڑتا ہے۔ وہی دوسری طرف اپنی محرومیوں کو ختم کرنے کے لئے ہر جائز و ناجائز طریقہ اختیار کرتا نظر آتا ہے۔ باغی ہمارے معاشرے کی وہ تصویر  بھی پیش کرتا ہے جہاں ہر کوئی اپنی ذات کو فرشتہ اور دوسرے کو شیطان ثابت کرنے میں لگاہے

یہ ڈرامہ ٹیلی ویژن پر نشر ہونے سے پہلے ہی سرخیوں میں رہا اور نشر ہوتے ہی اس نے مقبولیت کے تمام ریکارڈ توڑ دیے۔ بے باک، نڈر، آزاد خیال سوشل میڈیا اسٹار کا کردار صبا قمر نے بخوبی نبھایا۔
          




بالی وڈ اداکار عرفان خان آئی سی یو میں زیر علاج مدھو پال


بالی وڈ اداکار عرفان خان ممبئی کے کوکیلابین ہسپتال کے آئی سی یو میں زیر علاج ہیں۔
ابھی تک یہ واضح نہیں کہ انہیں آئی سی یو میں کیوں داخل کروایا گیا ہے۔ ہسپتال نے بھی صرف ان کی طبیعت خراب ہونے کی وجہ سے آئی سی یو میں داخل کیے جانے کے علاوہ کوئی اور تفصیل بتانے سے انکار کر دیا ہے۔
عرفان کے رشتہ داروں میں سے کسی نے بھی اس دوران باضابطہ طور پر بات کرنے سے منع کر دیا ہے۔
ایک قریبی ذرائع نے اپنا نام نہ بتانے کی شرط پر بتایا کہ طبیعت زیادہ بگڑ جانے کی وجہ سے ہی انہیں آئی سی یو میں رکھا گیا ہے۔
54 سالہ عرفان خان نیورو اینڈوکرائن ٹیومر سے متاثر ہونے کی وجہ سے علاج کروانے لندن گئے تھے۔ وہ گزشتہ برس علاج مکمل کروا کر ممبئی واپس لوٹے تھے۔
ذرائع ابلاغ کے مطابق ان کی فلم 'انگریزی میڈیم' کی شوٹنگ کے دوران بھی عرفان کی طبیعت اکثر بگڑ جایا کرتی تھی۔

ایسے میں پوری یونٹ کو کئی بار شوٹنگ روکنی پڑتی تھی۔ جب عرفان بہتر محسوس کرتے تھے تب شاٹ لیا جاتا تھا۔


گزشتہ دنوں عرفان خان کی والدہ سعیدہ بیگم ریاست راجستھان کے شہر جے پور میں انتقال کر گئیں۔ ملک گیر لاک ڈاوٴن کے باعث وہ اپنی والدہ کی آخری رسومات میں شامل نہیں ہو سکے تھے۔ اطلاعات کے مطابق انہوں نے ویڈیو کال کے ذریعے والدہ کی آخری رسومات میں شرکت کی۔
انہوں نے ٹویٹ کیا تھا 'زندگی میں اچانک کچھ ایسا ہو جاتا ہے جو آپ کو آگے لے کر جاتا ہے۔ میری زندگی کے گزشتہ چند برس ایسے ہی رہے ہیں۔ مجھے نیورو اینڈوکرائن ٹیومر نامی مرض ہو گیا ہے۔ لیکن میرے آس پاس موجود لوگوں کے پیار اور طاقت نے مجھ میں امید پیدا کی ہے۔'
مرض کے بارے میں پتا چلتے ہی عرفان خان علاج کے لیے لندن چلے گئے تھے۔