Select Menu

اہم خبریں

clean-5

Product.

Islam

Iqtibasaat

History

Photos

Sale

Misc

Technology

وزیراعظم عمران خان کے بڑے فیصلے


وزیراعظم عمران خان کے بڑے فیصلے
وفاقی کابینہ اجلاس میں پاورسیکٹر سے متعلق انکوائری رپورٹ پبلک کرنے کی منظوری دے دی، تعمیراتی شعبے کے لیے سیلز ٹیکس چھوٹ کی بھی منظوری دے دی
 وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت وفاقی کابینہ کا علاج ختم ہوگیا ہے۔اجلاس میں وزیراعظم عمران خان کی جانب سے کئی اہم فیصلے کیے گئے ہیں۔کابینہ اجلاس میں پانچ نکاتی ایجنڈے پر غور کیا گیا۔کابینہ اجلاس میں میں لاک ڈاؤن پر بھی بریفنگ دی گئی۔تعمیراتی شعبے کے لیے سیلز ٹیکس چھوٹ کی منظوری دی گئی۔
کابینہ نے پاورسیکٹر سے متعلق انکوائری رپورٹ پبلک کرنے کی منظوری دے دی۔وفاقی کابینہ نے قومی کمیشن برائے مینارٹیز کی تشکیل نو کی منظوری دے دی۔۔وفاقی کابینہ کے اجلاس میں ریٹائرمنٹ کے بعد سرکاری رہائش گاہ سے متعلق پالیسی پر نظرثانی کی منظوری بھی دی گئی ہے۔پالیسی کے تحت وقت سے پہلے ریٹائر ہونے والے ملازمین چھے ماہ سے زیادہ سرکاری رہائش استعمال نہیں کر سکیں گے۔

وزیراعظم نے وفاقی کابینہ کو قومی فیصلوں کے بارے میں اعتماد میں لیا۔اجلاس میں کابینہ کمیٹی برائے توانائی کے چیئرمین محمدعلی نے رپورٹ اور اپنی سفارشات پیش کیں جبکہ کابینہ کمیٹی برائے قانون سازی اجلاس میں کیے گئے فیصلوں کی بھی توثیق کی گئی۔وفاقی کابینہ نے احساس ایمرجنسی قیش ٹرانسفر پر ایڈوانس انکم ٹیکس کی چھوٹ کی منظوری دے دی اور کورونا سے بچاؤ، احتیاط سے متعلق درآمدات پر برانڈ کی شرط ختم کرنے کی بھی منظوری دی تھی۔
واضح رہے کہ کہ وزیرمنصوبہ بندی اسد عمر نے پاور سیکٹر کی انکوائری رپورٹ کو جاری کرنے کے حامی ہیں اور انہوں نے اپنی تجویزمیں رپورٹ کو شائع کرنے کی تجویزدی ہے.معتبر ذرائع کا کہنا ہے کہ چونکہ 350ارب روپے سے زیادہ کی یہ کرپشن وزارت توانائی‘ پاورڈویژن ‘واپڈا‘پیپکو اورنیپرا کے اعلی افسران اور کچھ طاقتور سیاسی شخصیات کی ملی بھگت سے ہوئی ہے اس لیے وزارت توانائی اور اس اسیکینڈل میں ملوث سیاسی لوگ رپورٹ کو پبلک کرنے کی مخالفت کررہے ہیں ‘ذرائع نے بتایا کہ وزیرمنصوبہ بندی اس سلسلہ میں وزیراعظم سے تفصیلی ملاقات کرچکے ہیں اور عید کے بعد وزیر اعظم کے دومشیروں سمیت کئی افراد کے استعفی سامنے آنے کی توقع ہے. تاہم وزیراعظم کی جانب سے وزارت توانائی‘مشیروں اور ملوث حکام کا ایک پیغام بجھوادیا گیا ہے کہ اگر وہ چینی اور آٹا بحران پر اپنے قریبی ساتھیوں کے خلاف ایکشن لے سکتے ہیں تو ان کے خلاف بھی ہنگامی حالت سے نکلنے کے بعد سخت کاروائی ہوگی لہذا توقع کی جارہی ہے کہ ان میں سے کئی لوگ بیرون ممالک فرار ہونے کی کوشش کرسکتے ہیں . ذرائع نے یہ بھی بتایا کہ وزیراعظم کے حکم پر ملوث افراد کے اندرون وبیرون ملک اثاثوں کی چھان بین کا بھی حکم دیا گیا ہے تاہم دنیا بھر کورونا وائرس کی وجہ سے لاک ڈان ہونے کے باعث معاملات سست روی کا شکار ہیں .

وزیر اعظم عمران خان نے خدشہ ظاہر کیا ہے.

وزیر اعظم عمران خان

وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ برصغیر میں غربت کی شرح بہت زیادہ ہے جس کی وجہ سے فیصلوں میں توازن لانے کے لیے مشکل فیصلے کرنا پڑ رہے ہیں . انہوں نے کہا کہ کرونا وائرس کا پھیلا
روکنے کے لیے لاک ڈان، لوگوں کو بھوک سے بچانے اور معیشت کو گرنے سے روکنے کے لیے ہمیں فیصلوں میں توازن پیدا کرنا پڑ رہا ہے.
ٹوئٹر پر اپنے پغام میں انہوں نے کہا کہ ہم نے تعلیمی ادارے، مالز، شادی ہال،  اور عوامی اجتماعات کی دوسری جگہیں بند کردی ہیں لیکن لاک ڈان کی تباہی روکنے لیے زرعی شعبہ کھول دیا ہے اور اب ہم تعمیرات کا شعبہ کھول رہے ہیں.

وزیراعظم ہاس کے مطابق وزیر اعظم عمران خان آج لاہور کا ایک روزہ دورہ کریں گے جہاں وہ کورونا وائرس سے بچا کے لیے کیے گئے اقدامات کا جائزہ لیں گے اس دوران گورنر پنجاب چوہدری سرور اور وزیر اعلی پنجاب عثمان بزدار وزیر اعظم عمران خان سے ملاقات کریں گے.
banner

پاکستان میں اب تک کورونا وائرس کے 2711 متاثرین کی تصدیق ہوئی ہے جبکہ ہلاکتوں کی تعداد 40 ہے سب سے زیادہ متاثرین 1072 صوبہ پنجاب میں ہیں جبکہ سندھ میں 839، خیبر پختونخوا میں 343، بلوچستان میں 175، اسلام آباد میں 75، گلگت بلتستان میں 195 اور آزاد کشمیر میں یہ تعداد 12 ہے 3 اپریل کو پاکستان میں اب تک ایک دن میں سب سے زیادہ 258 نئے مریضوں کا اضافہ ہوا تھا. اب تک پاکستان میں 139 افراد کووڈ 19 سے متاثر ہونے کے بعد صحتیاب ہو چکے ہیں جن میں سندھ سرفہرست ہے جہاں یہ تعداد 74 ہے

اگر اب بھی کرفیو نہ لگایا تو بہت دیر ہوجائے گی! .


کرونا وائرس نے پوری دنیا کو ہلا کر رکھ دیا۔ چین سے شروع ہونے والا یہ وائرس اب پوری دنیا میں پھیل چکا ہے، کوئی بھی ملک ایسا نہیں جہاں کرونا کا کیس سامنے نہ آیا ہو۔ دنیا بھر میں جان لیوا وائرس سے متاثرا افراد کی تعداد 5 لاکھ تک پہنچ چکی ہے۔ یہ وائرس کتنی تیزی سے پھیل رہا ہے اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ شروع کے دو مہینوں میں مریضوں کی تعداد صرف 1 لاکھ تھی جبکہ گزشتہ 1 ماہ میں حیران کن طور پر کرونا وائرس کے 4 لاکھ کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔

دوسری جانب 1 لاکھ مریض مکمل طور پر صحتیاب جبکہ 21 ہزار افراد اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔
مہلک وائرس نے پاکستان میں بھی پنجے گاڑ لیئے ہیں۔  پاکستان میں پہلا کیس 26 فروری کو رپورٹ ہوا. جس کے بعد    دیکھتے ہی دیکھتے مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا چلا گیا

....ایک رپورٹ کے مطابق ملک بھر میں اس وقت مشتبہ کیسز کی تعداد 7 ہزار سے تجاوز کرچکی ہے۔
اس حوالے سے حکومتی انتظامات نہ ہونے کے برابر ہیں۔ تحریک انصاف کی حکومت کی قابلیت کا تو گزشتہ 18 ماہ میں اندازہ ہو ہی گیا تھا، تاہم اب عمران خان صاحب سمیت پوری حکومت کی نیت پر بھی شک ہوتا ہے۔ ہم نے دیکھا کہ کرونا وائرس کے کیسز سامنے آنے کے بعد چین، برطانیہ، یورپ اور بھارت سمیت دنیا کے کئی ملکوں میں کرفیو لگانے کا اعلان کیا گیا۔ اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ مہلک وائرس ایک شخص سے دوسرے شخص میں تیزی سے منتقل ہوتا ہے۔
.....تاہم پاکستان میں 7 ہزار مشتبہ کیسز سامنے آنے کے بعد بھی کرفیو لگانے کا اعلان نہیں کیا گیا۔ 
ہمارے پاس امریکہ کی مثال موجود ہے، جہاں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یہ کہہ کر کرفیو لگانے سے انکار کردیا تھا کہ کرفیو سے امریکی معیشت کو نقصان پہنچ سکتا ہے، تاہم اس بیان کے ٹھیک 5 دن بعد ٹرمپ نے امریکہ کی کئی ریاستوں میں مکمل لاک ڈاؤن کا اعلان کردیا، لیکن افسوس. بہت دیر ہوچکی تھی۔


چند ہی دنوں میں امریکہ میں کرونا وائرس کے کل کیسز کی تعداد 65 ہزار تک پہنچ چکی ہے.... اگر گزشتہ 24 گھنٹوں کی بات کی جائے تو امریکہ میں 10 ہزار کے قریب کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔
پاکستان میں بھی حالات کچھ ایسے ہی ہیں۔ ہمارے وزیراعظم جنہیں ہم نے ووٹ دے کر منتخب کیا، فرماتے ہیں کہ اگر ملک میں کرفیو لگایا تو ملک کی معیشت تباہ ہوجائے گی۔ ہم بھی مانتے ہیں کہ مکمل کرفیو لگانے سے معیشت کو نقصان پہنچے گا لیکن کرفیو لگانا وقت کی ضرورت ہے کیونکہ معیشت لوگوں کی جانوں سے زیادہ عزیز نہیں اور نہ ہی کبھی معیشت لوگوں کی جانوں سے زیادہ عزیز ہوسکتی ہے۔


ایک ریسرچ منظرعام پر آئی ہے جو مجھے بھی پڑھنے کا موقع ملا جس میں مئی کے آخر تک پاکستان میں کرونا وائرس کے مشتبہ کیسز کے اعداد و شمار بھی بتائے گئے ۔ اعداد و شمار اتنے خوفناک ہیں کہ میں یہاں بتا بھی نہیں سکتا۔ لہذا وزیراعظم صاحب.  گزارش ہے کہ کرفیو لگانے میں پہلے ہی دیر ہوچکی ہے لیکن اگر اب بھی کرفیو نہ لگایا تو بہت دیر ہوجائے گی۔